ابنا: روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے قاہرہ کے دورے کو دونوں فریقوں نے تاریخی قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ کئی دہائیوں کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب روس کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے قاہرہ کا دورہ کیا ہے۔
مصر کی فوج کے سربراہ عبد الفتح السیسی نے کہا ہے کہ روسی عہدیداروں کے اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعمیری تعلقات اور باہمی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔
امریکیہ کی جانب سے مصر کو دی جانے والی دفاعی امداد میں کمی کے فیصلہ کے بعد سے قاہرہ اور ماسکو کے درمیان سفارتی سرگرمی میں تیزی آئی ہے۔
روس کے ایشیا پیسفک بحری بیڑے کا اہم جہاز وریاگ اسکندریہ کے چھ روز کے دورے پر ہے۔ سنہ 1992 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب روسی جنگی جہاز مصر کے لیے روانہ ہوا ہے۔
مصری حکام نے اس دورے کو ’تاریخی‘ قرار دیا ہے۔
روسی وزیر خارجہ لاوروف نے کہا ہے کہ دو سال سے زیادہ عرصے سے روس، مصر میں آنے والی جہموری تبدیلیوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں اعتماد ہے کہ مصر اس حالیہ بحران سے نکل آئے گا اور تمام سیاسی، نسلی اور مذہبی دھڑوں کے مفاد کا خیال رکھا جائے گا۔
.......
/169